آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کی شرعی حیثیت اور اس کے جواز کے پیش کیے جانے والے دلائل کا علمی جائزہ
سوال:- السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
Trade( آن لائن فاریکس (Forex) ٹریڈنگ کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ کیا فاریکس ٹریڈنگ جس میں کرنسی ایکسچینج، کیری ٹریڈنگ Carry) اور کموڈیٹی ٹریڈنگ (Commodity Trading) شامل ہیں شرعاً حلال ہے یا حرام ؟ اس کے ناجائز ہونے کے بنیادی شرعی اسباب و علل کیا ہیں؟ نیز جو لوگ اس کے جواز میں قبض حکمی'، 'بیانہ ، اسوئپ فری اکاؤنٹس اور کرنسی کو اسلحہ اقرار دینے جیسے دلائل پیش کرتے ہیں، ان کا شرعی اور فقہی جواب کیا ہے؟ براہ کرم دلائل کے ساتھ تفصیلی وضاحت
فرمائیں؟
جواب:- آن لائن فاریکس (Forex) ٹریڈنگ اپنی مروجہ اور موجودہ عملی صورتوں بالخصوص کرنسی ایکسچینج، کیری ٹریڈنگ ( Carry Trade)، اور کموڈیٹی ٹریڈنگ (Commodity Trading) میں شرعی اصولوں کے منافی اور ناجائز ہے۔ یہ نظام حقیقی تجارت کے بجائے ایک ایسا مشکوک معاہداتی ڈھانچہ ہے جس میں سود، قمار (جوا)، بیع فاسد ، اور شرعی قواعد کی صریح خلاف ورزیاں پائی جاتی ہیں۔
حوالہ جات:- فاریکس ٹریڈنگ کی بنیادی اقسام کا تعارف:
کرنسی ایکسچینج (Currency Exchange): ایک ملک کی کرنسی کو دوسری کرنسی کے بدلے خرید نا یا بیچنا تا کہ شرح تبادلہ کے اتار چڑھاؤ سے نفع کمایا جا سکے۔
کیری ٹریڈنگ (Carry Trade): کم شرح سود والی کرنسی ادھار لے کر زیادہ شرح سود والی کرنسی میں سرمایہ کاری کرنا تا کہ سود کے فرق سے نفع حاصل کیا جا سکے۔ (مثال کے طور پر جاپانی ین کم سود پر ادھار لے کر امریکی ڈالر میں سرمایہ کاری کرنا)۔
کموڈیٹی ٹریڈنگ (Commodity Trading): کرنسی کے بجائے خام مال یا اجناس ( جیسے سونا، چاندی، خام تیل، دھاتیں، گندم وغیرہ) کی خرید و فروخت کرنا، جس میں اکثر اصل مال کے بجائے محض قیمتوں کے فرق پر سٹہ بازی ہوتی ہے۔
کاروبار کا طریقہ کار اور اس کی حقیقت:
فاریکس کے کاروبار کا مروجہ طریقہ کار یہ ہے کہ کوئی شخص براہ راست اس مارکیٹ میں خریداری کا اہل نہیں ہوتا، بلکہ وہ کسی کمپنی (بروکر) میں کچھ رقم ( مثلاً ایک ہزار ڈالر) جمع کروا کر اپنا اکاؤنٹ کھلواتا ہے اور اس کے ذریعے مارکیٹ میں داخل ہوتا ہے۔ یہ کمپنیاں دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی رقم کی ضمانت (لیور بیج) فراہم کرتی ہیں۔ انٹرنیٹ پر مارکیٹ کے حوالے سے مختلف اشیاء کے ریٹ لمحہ بہ لمحہ بدلتے رہتے